25 اکتوبر 2011 - 20:30

انسانی فطرت کے عین مطابق ہر انسان کی یہی کوشش ہو تی ہے کہ وہ خدمت گزاری کے بجائے مخدومی سے لطف اندوز ہوتا رہے -- لیکن امام زین العابدین (ع) سے منسوب ذیل میں دی گئی روایت سے ہمیں یہی درس ملتا ہے -- خدمت خلق اللہ ایک عظیم عبادت ہے جس سے وہ عطیم شخصیات بھی محروم نہیں ہونا چاہتی ہیں جن کی طفیل سےلوح و قلم وجود میں آئے ہیں۔

ابنا: مکہ اورمدینہ کے راستے میں اہل قافلہ کی ایک شخص سےملاقات ہوئي جوان کوپہچانتا تھا ۔ وہ شخص قافلے والوں سے بات کرہی رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ قافلے میں ایک بہت ہی باوقار ونیک وصالح کوئي آدمی موجود ہے اور وہ پھرتی کے ساتھ اہل قافلہ کی خدمت کررہا ہے اورجس کوجس چیزکی بھی ضرورت ہے وہ پوری کررہا ہے ۔ دیکھتی ہی اسے پہنچان لیا اورپھر تعجب کے ساتھ قافلے والوں سے پوچھا کہ تم لوگ اس شخص کوجو تم لوگوں کی خدمت کررہا ہے جانتے ہو ؟قافلے والوں نے کہا نہيں ہم تو اسے نہیں جانتے یہ شخص مدینہ میں ہمارے قافلے میں شامل ہوا ہے البتہ اتنا ضرورمعلوم ہے کہ یہ شخص ایک مومن متقی اورپرہیزگار شخص ہے ہم نے اس نہيں کہا کہ وہ ہمارے کام انجام دے یا ہماری خدمت کرے لیکن وہ اپنی مرضی سے ہمارے کام انجام دے رہا ہے اوراہل قافلہ کی مدد کررہا ہے ۔اس شخص نے قافلےوالوں سے کہا کہ صاف ظاہر ہے کہ تم لوگ انھیں نہيں پہنچانتے اگرپہنچانتے ہوتے تو اس قدر گستاخ نہ ہوتے اورپھرہرگزانھیں اس طرح کام کرنے کی اجازت نہ دیتے کہ وہ ایک خدمت گزار کی طرح تم لوگوں کے امورانجام دے لوگوں نے پوچھا کہ اچھا اب توبتادو کہ یہ کون ہيں ؟ اس شخص نے جواب دیا کہ یہ امام علی بن الحسین زین العابدین ہيں ۔قافلے والے تیزی کے ساتھ شرمندگی کی حالت میں اپنی جگہ سے اٹھے اورامام سے معافی مانگنے اور ان کی قدم بوسی کے لئے ان کی طرف بڑھے امام نے جواب دیا کہ میں نے جان بوجھ کرتم لوگوں کواپنا ہمسفر منتخب کیا ہے تاکہ اپنے دوستوں اورچاہنےوالوں کی خدمت کرسکوں ۔التماس دعا

...........

/169